بریکنگ نیوز : مولانا فضل الرحمان کو بڑا دھچکا ۔۔۔۔ سرگرم اور فعال ترین رہنما کو گرفتار کر لیا گیا

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کا صبح صبح بڑا دھچکا، اہم رہنماؤں کی گرفتاری کی خبر نے مولانا فضل الرحمان کو حیرت میں ڈال دیا، جے یو آئی ایف کے دو علماء کو آزادی مارچ میں شرکت پر اکسانے کے الزام میں اسلام آباد سے گرفتار کر کے

تھانہ شمس کالونی میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا شفیق الرحمٰن اور مولانا محمد ارشاد کو گرفتار کرکے ان کے پاس سے بینرز برآمد کیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ یہ لوگوں کو آزادی مارچ میں شرکت پر اکسا رہے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق چند افراد دھرنے کے بینرز بھی لگا رہے تھے جو پولیس کو دیکھ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ ملزمان نے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کیا ہے۔ واضح رہے کہ آزادی مارچ سے قبل جمعیت علماء اسلام ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حکم پر 25 ہزار سے زائد شرکاء جڑواں شہروں میں پہنچ چکے ہیں، جنہوں نے عزیز و اقارب کے پاس اور پرائیویٹ رہائش حاصل کررکھی ہے۔ ملکی سیاست سے ایک اور خبر مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کی خبریں گزشتہ سال گردش کر رہیں تھیں، اور پولیس بھی اس کشمکش کا شکار ہو گئی تھی کہ سکیورٹی دی جائے یا گرفتار کیا جائے کیونکہ مولانا فضل الرحمان کے کیخلاف پنجاب پبلک آرڈیننس 6 کے تحت بہاولپور میں مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں