بریکنگ نیوز: نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان کا اعلان، شائقین کرکٹ کے لیے زبردست خوشخبری

" >

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) نیوزی لینڈ کی خواتین بلائنڈ کرکٹ ٹیم آئندہ سال پاکستان کا دورہ کرے گی، اس حوالے سے پاکستان اور نیوزی لینڈ کی بلائنڈ کرکٹ کونسلوں کے حکام کے مابین بات چیت جاری ہے۔ پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل (پی بی سی سی) کے چیئرمین سید سلطان شاہ نے بتایاکہ پی بی سی سی

نے نیوزی لینڈ کی خواتین ٹیم کو پاکستان بلانے کیلئے انتظامات کئے ہیں۔نیوزی لینڈ کی خواتین بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو پاکستان بلانے کے حوالے سے سید سلطان شاہ نیوزی لینڈ کے حکام سے بات چیت کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ نیوزی لینڈ کی بلائنڈ خواتین کرکٹ ٹیم آئندہ سال اکتوبر یا نومبر میں پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس سلسلہ میں دونوں ممالک کے مابین تفصیلات بہت جلد طے پا جائیں گی۔ اس سے قبل نیپال کی ویمنز بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے رواں سال فروری 2019 میں پاکستان کا دورہ کر چکی ہے اور یہ سیریز دونوں ممالک کے درمیان پہلی انٹرنیشنل سیریز تھی جو کہ نیپال نے جیتی۔ نیوزی لینڈ اور پاکستان کی خواتین بلائنڈ ٹیموں کے مابین یہ دوسری بین الاقوامی سیریز ہوگی۔
دوسری جانب ایک خبر کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ کے کھیل سے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کیلئے ہر سال ورلڈ کپ کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت 2023ءسے 8 سالوں میں 8 مینز ایونٹ، اتنے ہی ویمنز ایونٹ، 4 مینز انڈر 19 اور اتنے ہی ویمنز انڈر 19 ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جائے گا۔2023ء سے 2031 ءتک 8 برس کے دورانیہ میں 8 مینز، 8 ویمنز، 4 مینز انڈر 19 اور اتنے ہی ویمنز انڈر 19 ٹورنامنٹس منعقد کئے جائیں گے تاہم اس عرصے میں ٹی 20 اور ون ڈے ورلڈ کپ کی تعداد کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا البتہ بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کونسل ہر سال ٹی 20 اور ہر 3 سال بعد ون ڈے ورلڈ کپ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ذرائع کے مطابق آئی سی سی میزبانی کیلئے تمام ممبران سے اظہار دلچسپی طلب کرے گی جبکہ بڈنگ کا عمل ویمنز اور انڈر 19 ایونٹس کی میزبانی سے

2020ءکے اوائل میں شروع ہوگا۔آئی سی سی چیئرمین ششانک منوہر کا کہنا ہے کہ تمام آپشنز کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد بورڈ نے محسوس کیاکہ کیلنڈر میں مستقل مزاجی اور کھیل کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کیلئے ہر سال مرد و خواتین کے بڑے ایونٹس کا انعقاد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے ناصرف سٹرکچر بہتر ہو گا بلکہ کھیل کو بھی فروغ ملے گا اور تمام سٹیک ہولڈرز کیلئے بھی مواقع بڑھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسا بڈنگ ماڈل بھی تیار کر رہے ہیں جس سے 2023ءکے بعد تمام ممالک کو آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کے یکساں مواقع ملیں۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ہر سال ورلڈکپ کرانے کافیصلہ کیا تو بھارت نے اس فیصلے کیخلاف موقف اپنایا مگر آئی سی سی نے بھارتی ’دھمکی‘ کو ہوا میں اڑا دیا۔تفصیلات کے مطابق بی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹیو راہول جوہری نے ای میل کے ذریعے کونسل کے چیف ایگزیکٹیو مانو ساہنی کو خبردار کیا تھا کہ ہر سال ورلڈکپ کے منصوبے پر مختلف وجوہات کی بنا پر عمل نہیں کیا جا سکتا جبکہ بی سی سی آئی کے جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں، اور نئے حکام ہی اس حوالے سے اپنی رائے دیں گے۔بھارتی میڈیا میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کی جانب سے امیتابھ چوہدری پر آئی سی سی میں بی سی سی آئی کی نمائندگی پر پابندی عائد ہونے کے باوجود کونسل کے چیئرمین ششانک منوہر نے انہیں دبئی بلایا۔واضح رہے کہ آئی سی سی نے کرکٹ کے کھیل سے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کیلئے ہر سال ورلڈ کپ کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت 2023ءسے 8 سالوں میں 8 مینز ایونٹ، اتنے ہی ویمنز ایونٹ، 4 مینز انڈر 19 اور اتنے ہی ویمنز انڈر 19 ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں