مسئلہ کشمیر کے چار ممکنہ حل : ریٹائرڈ پاکستانی بیوروکریٹ نے 4 ایسی تجاویز پیش کر دی جن پر پاکستان اور بھارت دونوں کی حکومتیں اور افواج ضرور غور کریں گی

" >

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پوری دنیا پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح کر دیا ہے ، مگر کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کا سلسلہ بدستور جاری ہے اس ضمن میں نامور پاکستانی سابق بیورو کریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندوستان کو جو بار بار مذاکرات کی دعوت دی جا رہی ہے تو مسئلہ کشمیر کا ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے؟(i)۔ ہندوستان راضی ہو جائے اور حق بحق دار رسید کے مصداق کشمیر سے نکل جائے۔(ii)۔ پاکستان اپنے حصے سے دست بردارہو جائے۔ (iii)۔ لائین آف کنٹرول کو بین الاقوامی بائونڈری مان لیا جائے۔(iv)۔ استصواب کرا کے کشمیر کو آزاد کر کے اسے بطور ایک ملک کے مان لیا جائے۔ اسکے علاوہ اور کوئی پرامن حل ممکن نہیں ہے۔ غاصب کی اپنی منطق ہوتی ہے۔ ہندو مخصوص ذہنیت رکھتے ہیں جو لوگ آج تک پاکستان کے وجود کو ذہنی طور پر تسلیم نہیں کر پائے۔ وہ مقبوضہ کشمیر سے کیسے دست بردار ہونگے۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور مسلم اکثریت کی ریاست ہے لہٰذا دوسری آپشن کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ لائین آف کنٹرول کو بین الاقوامی بائونڈری شاید ہندو تو مان جائیں مگر اہل کشمیر اور پاکستانی کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔ چوتھی صورت بھی ہندوئوں کو کبھی بھی قبول نہیں ہو گی۔ جتنی فوج ہندوستان میں تعینات کر رکھی ہے اتنی تو بقیہ ہندوستان میں بھی نہیں۔ اس سے انکے عزائم کا پتہ چلتا ہے۔ٹرمپ کے حالیہ بیان کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو ہندوستان نے امریکہ کی ثالثی ماننے سے ترت انکار کر دیا ہے۔ بالفرض مان بھی جائے تو وہ ہو گی کیا؟ گو ٹرمپ نے ایک ہی سانس میں ARBITRATION اور MEDIATION کا ذکر کیا ہے لیکن زیادہ زور آربٹریشن پر ہے آربٹریشن ہوتی کیا ہے؟ یہ جاننا ہماری قوم کیلئے ضروری ہے۔

جب آپ کسی کو ثالث مقرر کر دیتے ہیں تو پھر وہ جو بھی فیصلہ کرے اسی سے انحراف نہیں کر سکتے۔ کیا معروضی حالات میں ایک MAVEKاور INDIA PRONE صدر سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ انصاف کرے گا۔ یہ ملین ڈالر سوال ہے اور اس کا جواب دینا بھی چنداں مشکل نہیں ہے۔ وقتی فائدے کیلئے اس نے یہ چال چلی ہے۔ یقیناً سنجیدہ نہیں ہے۔امریکہ اپنے آپکو انسانی حقوق کا علمبردار کہتا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت رکواتا۔ ہندوستان کی ملٹری ایڈ بند کر دیتا۔ اس کیخلاف اسی قسم کی پابندیاں لگاتا جو اس نے ایران اور شمالی کوریا پر لگائی ہیں۔ پاکستان کی قومی امداد بحال کرتا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا۔ ’’گونگلوئوں‘‘ سے مٹی جھاڑنا شعبدہ بازی تو ہو سکتی ہے، اسے سنجیدہ کوشش قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ہمارے سادہ لوح عوام کیلئے یہ حقیقت جاننا ضروری ہے۔اگر ایسا ہے تو پھر ہو گا کیا؟ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال تشویش ناک ضرور ہے مگر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ بے پناہ قوت کے باوصف اگر روس کو افغانستان سے نکلنا پڑا امریکیوں کو ویت نام میں ہزیمت اٹھانا پڑی اب افغانستان سے نکلنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں تو ہندوستان کو بھی کشمیر سے نکلنا پڑیگا۔ مزاحمت کا اثر بالآخر دیگر ناراضی علاقوں پر بھی پڑرہا ہے۔ وہاں بھی تحریکیں شروع ہو گئی ہیں۔ جو بتدریج زور پکڑیں گی۔ ہندوستان اندر سے بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ پاکستان کو بہرحال کشمیریوں کی امداد جاری رکھنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں