محسن عباس حیدر اور فاطمہ سہیل کو لاہور فیملی کورٹ نے وہ فیصلہ سُنا دیا جسکی دونوں ہی اُمید کر رہے تھے

" >

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور کے فیملی کورٹ نے پاکستان کے نامور اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر اور فاطمہ سہیل کو خلع کی ڈگری جاری کردی جس کے ساتھ ان کے ازدواجی سفر کا اختتام ہوگیا۔جج بابر ندیم نے فاطمہ سہیل کی خلع کی درخواست پر سماعت کی۔اس دوران فاطمہ سہیل کا کہنا تھا کہ وہ اب محسن عباس

حیدر کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتیں اور نہ ہی ان سے صلع کرسکتی ہیں۔محسن عباس حیدر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بھی اب فاطمہ سہیل کے ساتھ زندگی گزارنا نہیں چاہتے۔عدالت نے دونوں کے بیانات کو سننے کے بعد خلع کی ڈگری جاری کردی۔عدالت کے باہر جب رپورٹرز نے محسن عباس حیدر سے سوال کیا کہ ان کا بیٹے ماں یا باپ میں سے کس کی تحویل میں دیا جائے گا؟ تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ‘بیٹے کے لیے ماں اور باپ دونوں کا پیار بےحد ضروری ہے، البتہ اس کی تحویل کے حوالے سے وکلا سے مشورہ کرکے قانونی کارروائی کے حوالے سے سوچیں گے۔محسن عباس اور فاطمہ سہیل کے درمیان تنازع کا پس منظر:خیال رہے کہ رواں سال 20 جولائی کو فاطمہ سہیل نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے محسن عباس حیدر پر جنسی تشدد کرنے اور شادی شدہ ہونے کے باوجود نازش جہانگیر نامی ماڈل سے تعلقات رکھنے کا الزام لگایا تھا اور محسن کے خلاف مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔فاطمہ کے محسن پر الزام کے بعد 2 اداکار دعا ملک اور گوہر رشید نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ وہ اس سب سے آگاہ تھے تاہم فاطمہ کے منع کرنے کے باعث اب تک خاموش رہے جبکہ کئی اور نامور شخصیات بھی فاطمہ سہیل کے سپورٹ میں سامنے آئیں۔بعدازاں محسن عباس حیدر نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کی اہلیہ نے ان پر جھوٹا الزام لگایا ہے اور طلاق ہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔دوسری جانب ماڈل نازش جہانگیر نے بھی

سوشل میڈیا پر فاطمہ کی جانب سے لگائے الزامات کو بےبنیاد قرار دیا۔اس کے بعد محسن عباس اور فاطمہ سہیل نے اپنے اپنے بیانات ایس پی کینٹ لاہور کے دفتر میں اپنے، اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔بعدازاں فاطمہ کی جانب سے الزامات کے بعد محسن عباس حیدر کو دنیا ٹی وی کے شو ‘مذاق رات’ سے نکالتے ہوئے چینل نے اداکار سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔اہلیہ کی جانب سے الزام کے بعد لاہور کے ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں محسن کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی، جس کے بعد محسن عباس نے لاہور کی سیشن عدالت سے عبوری ضمانت کی استدعا کی جسے عدالت نے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرلیا، جبکہ بعدازاں ان کی عبوری ضمانت میں 16 اگست تک توسیع بھی کی گئی۔اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ محسن عباس اور نازش جہانگیر بہت جلد شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہیں۔بعدازاں فاطمہ سہیل نے محسن عباس سے خلع لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے لاہور کے فیملی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔خیال رہے کہ محسن عباس کی شادی فاطمہ سہیل سے 2015 میں ہوئی تھی۔2016 میں محسن عباس حیدر کی اپنی اہلیہ سے علحیدگی کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تاہم اداکار نے خاموشی اختیار کی جبکہ بعدازاں ان خبروں کو بےبنیاد کہا گیا۔2017 میں اداکار کے ہاں پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام انہوں نے ماہ وین عباس رکھا تھا۔البتہ اس ہی سال دسمبر میں اداکار کی بیٹی کا انتقال ہوگیا تھا، جس کا اعلان بھی انہوں نے سوشل میڈیا پر کیا تھا۔رواں سال 20 مئی کو ان کے گھر بیٹے کی پیدائش کوئی جس کا اعلان بھی اداکار نے سوشل میڈیا پر کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں