پاکستان میں کاروں کی فروخت کس قدر نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی اور کیوں؟ وجہ سامنے آگئی

" >

لاہور (ویب ڈیسک)ملک میں کاروں کی فروخت 5 سال کی نچلی ترین سطح پر آگئی، اگست میں 10 ہزار کاریں بھی فروخت نہ ہو سکیں۔کار مینوفیکچررز کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال اگست میں تقریباً 15 ہزار کاریں فروخت ہوئی تھیں جبکہ رواں سال اگست میں صرف تقریباً 9 ہزار کاریں فروخت ہوئیں۔اسی طرح گذشتہ

سال جولائی اگست میں 34 ہزار کے مقابلے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران صرف 20 ہزار کاریں ہی فروخت ہو سکی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق کاریں مہنگی ہونے اور معاشی سست روی کے سبب کار فروخت میں مسلسل کمی کا رحجان دیکھا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ڈالر مزید سستا ہوگا، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں 1 ارب 27 کروڑ ڈالرز کا زبردست اضافہ، دو ماہ کے دوران قومی خزانے میں بدتریج اضافہ ہوا جس باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب 75 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 1 ارب 27 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سٹیٹ بینک کے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت 15 ارب 75 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں جس میں مرکزی بینک کے ذخائر 1 ارب 18 کروڑ ڈالر اضافے سے 8 ارب 46 کروڑ ڈالر ہیں۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت دو ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں جبکہ عالمی مالیاتی اداروں کے معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے ذخائر کم از کم 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہونا ضروری ہیں۔دوسری جانب دو ماہ میں کمرشل بینکوں کے ذخائر 9 کروڑ ڈالر اضافے سے 7 ارب 29 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض ملنے کے باعث ہوا۔جبکہ پاکستان کی ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی باعث پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 2 ماہ کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 7 روپے سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ جبکہ امکان ہے کہ ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں