شہلا رشید دراصل کون ہے ، اچانک کہاں سے نکل آئی ۔۔۔؟ ایک کشمیری مسلمان پی ایچ ڈی کی طالبہ کی زندگی کے چند ایسے حقائق جن سے آپ یقیناً ناواقف ہونگے

" >

لاہور (ویب ڈیسک) کشمیر دو جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ یہ علاقہ عالمی سطح پر

نوجوان خاتون صحافی تہمینہ خالد اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ متنازع قرار دیا گیا ہے۔ پانچ اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے آئین ہند کی دفعہ 370 کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔اس کے بعد اس جنت جیسی وادی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل اور موبائل سروس بند اور مقامی سیاسی لیڈروں کو گرفتار کیا گیا۔اب تک پوری عوام سراپا احتجاج ہے ۔ اسی میں سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر نظر رکھنے والی دبنگ خاتون شہلا رشید کے نام سے تو ضرور واقف ہوں گے۔ شہلا رشید دراصل کون ہیں؟ اس سے پورا بھارت کیوں ڈرتا ہے۔اس کے خلاف فوج داری مقدمات کیوں بنائے جا رہے ہیں اور اس کی گرفتاری کے لیے کیوں مہم چلائی جا رہی ہے؟کیا شہلا رشید کوئی مجاہد ہے جسے بھارت عسکری پسند قرار دیتا ہے یا پھر کوئی مسلح جنگجو ہے؟جی ہاں ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ بھارت جیسی ایٹمی طاقت ایک نہتی کشمیری لڑکی سے ایسے ہی خوفزدہ ہے جیسے وہ پوری قوم سے خوفزدہ ہے۔اگر بھارت کو کشمیری قوم کے رد عمل کا خوف نہ ہوتا تو آرٹیکل 370 اے کی شق کی خاتمے سے قبل پوری مقبوضہ وادی میں کرفیو نہ لگاتا۔ ایک لاکھ اضافی فوج تعینات نہ کرتا۔شہلا رشید نہ صرف کشمیری عوام بلکہ زندہ ضمیر انسانیت کی ترجمان ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کر کے مظلوم کشمیری عوام کا مقدمہ لڑا ہے اس پروہ خراج تحسین کی مستحق ہیں۔ اس نے کشمیر میں حالیہ دنوں میں

قابض بھارتی فوج کی وحشیانہ بربریت کو جس بہادری کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ اسی جرم میں اسے اب بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شہلا رشید نئی دہلی کی جواہر لعل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ جے این یو اسٹوڈینٹ یونین کی سابق نائب صدر ہیں ۔ 2016 میں کنہیار کمار اور شہلا رشید کو ملک سمیت دنیا بھر میں ایک تحریک کی وجہ سے شہرت ملی اور یہ دونوں سامنے آئے ۔شہلا رشید کا تعلق ایک نوزائیدہ سیاسی جماعت جموں کشمیر پیپلز موومنٹ ہے ۔ اس پارٹی کے سربراہ شاہ فیصل ہیں۔ جنہیں حال ہی میں گرفتار کر کے نطر بند کردیا گیا ہے۔ نوجوان سوشل کارکن اور جے این یو اسٹوڈینٹ یونین کی سابق نائب صدر شہلا رشید کے خلاف بھارتی سیاسی حکمران جماعت بی جے پی اور سنگھ حامی میڈیا ،عوام اور سماجی کارکنان نفرت اور اختلاف کی تمام حدیں پارکرچکے ہیں ۔اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اسے ملک دشمن بتایا جا رہا ہے ۔کچھ لوگ شہلا رشید کے حمایتی بھی ہیں ۔شہلا رشید کا جرم صرف اتناہے کہ وہ کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں اور کشمیر کے موجودہ حالات پر مسلسل مرکزی سرکار پر تنقید کررہی ہیں ۔ شہلا رشید نے کشمیر سے آنے والے کچھ لوگوں سے وہاں کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان معلومات کو شیئر کر دیا ۔ شہلا رشید کے مطابق کشمیر میں ہزاروں افراد کو حراست میں لینے کے بعد کشمیر سے باہر

منتقل کردیا گیا ہے۔مقامی حراستی مراکز میں قید کشمیریوں پرانسانیت سوز تشدد کیا جاتا ہے۔ اور ان کی چیخ پکار لاؤڈ اسپیکروں پر پورے مقبوضہ کشمیر کو سنائی جاتی ہیں۔ یہ بھارت کا وحشیانہ حربہ اور درندگی کی بدترین مثال ہے۔ شہلا رشید کشمیری عوام کی آواز ہے اور اس آواز کو بھارت دبانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے ۔کیونکہ بھارت حق اور سچ کی ہرآواز کے خلاف ہے ۔شہلا رشید کو کشمیر کی حالیہ صورتحال پر اپنی کچھ ٹوئٹس کی وجہ سے بھارت میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کشمیر میں لوگوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا،”بھارتی فوجی رات کو گھروں میں گھستے ہیں، لڑکوں کو زبردستی اٹھا لیتے ہیں، گھر کا سامان تہنس نہس کرتے ہیں، راشن اٹھا کر پھینک دیتے ہیں۔” انہوں نے مزید لکھا، “شوپیاں میں چار آدمیوں کو تشدد کے لیے فوجی کیمپ لے جایا گیا جہاں ایک مائیک کو قریب رکھا گیا تاکہ علاقے کے لوگ ان کی چیخیں سن سکیں۔ اس نے پورے علاقے میں خوف کی فضا قائم کر دی۔” ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا، “آخر میں کشمیر میں جو چیز دم توڑ گئی وہ بھارت کی جمہوریت ہے۔ ہر چیز کو پاکستان کی طرف نہ لے جایا جائے ۔ ہم کشمیری صرف اس لیے خاموش نہیں رہ سکتے کہ بھارتی حکومت کے اقدامات اسے عمران خان کے مقابلے میں منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔” شہلا رشید کے خلاف نہ صرف بھارتی میڈیا میں مہم چلائی جا رہی ہے بلکہ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی

کے کئی سیاستدانوں نے تو انہیں ملک دشمن قرار دیدیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے وکیل الاکھ الوک نے شہلا رشید کے خلاف ایک شکایت درج کرائی ہے اوربھارتی فوج اور حکومت کے خلاف “جھوٹی خبروں” کی اشاعت پر ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹوئٹر پر ان کے خلاف “اریسٹ شہلا رشید “کا مطالبہ ٹرینڈ کرتا رہا۔ ایسے میں بھارتی سول سوسائٹی سے وابستہ لوگ شہلا رشید کی حمایت میں نکل آئے ہیں۔ ایک بھارتی صارف پرشانتو نے ٹویٹ میں لکھا،” بی جے پی کو کیوں شہلا رشید سے ڈر لگتا ہے ؟ وہ کشمیری ہے، مسلمان ہے، عورت ہے اور پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔ یہ بہت خطرناک امتزاج ہے۔”کویتا کرشن نامی صحافی نے ٹویٹ میں لکھا، “اس گورنر کی گرفتاری کا کوئی مطالبہ نہیں جو کشمیریوں کے قتل عام کی بات کر رہا ہے لیکن اس عورت کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔”شہلا کی ان ٹویٹس کو تقریباً تین ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے جبکہ اس پر ڈھائی ہزار کمنٹس بھی ہیں اور چھ ہزار سے زائد لوگوں نے انھیں لائیک کیا ہے۔شہلا نے جب سے ایک دس نکاتی ٹویٹ کی ہے ، تب سے سوشل میڈیا پر ناصرف ان سے منسلک مختلف ہیش ٹیگز ( ’شہلا رشید‘، ’ اریسٹ شہلا رشید‘، ’آرمی ورسز شہلا‘ ) نظر آرہے ہیں بلکہ ایک انڈین نیوز چینلز کی جانب سے ایسا پول بھی چلایا گیا جس میں ان کو گرفتار کیا جانا چاہیے یا نہیں،

کے بارے میں عوامی رائے لی جا رہی تھی۔ اپنی ٹویٹس میں شہلا نے انڈین سکیورٹی فورسز پر وادیِ کشمیر میں عام شہریوں کے خلاف تشدد کے الزامات عائد کیے تھے جسے انڈیا کی فوج نے “بے بنیاد اور غیر مصدقہ” کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ شہلا رشید کو ٹوئٹر پر ٹرول کیا جا رہا ہو یا انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو لیکن پہلی مرتبہ ان کی ٹویٹس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا گیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران شہلا کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب لاکھوں کشمیری خاندان آپس میں رابطہ نہیں کر پا رہے۔جب کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جاری ہیں۔عام لوگوں کے خلاف پیلٹ گن، پیپر گیس اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔وہاں کے لوگوں کو خبروں تک کسی قسم کی کوئی رسائی نہیں۔ ذرائع مواصلات منقطع ہیں۔تو ایسے وقت میں، میرے خلاف کسی قانونی چارہ جوئی سے مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں اپنے بارے میں بالکل نہیں سوچ رہی اور نا ہی خود کو لے کر پریشان ہوں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی توجہ کشمیر پر اور جو کچھ وہاں ہوا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے اس پر رکھیں۔ جس طرح سے آئین کے آرٹیکل370کا خاتمہ کیا گیا اور ہمارے حقوق ہم سے چھینے گئے۔ ہماری ساری توجہ اس پر ہونی چاہیے۔ دہلی ائیر پورٹ سے شاہ فیصل کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کوئی ایسا قانون نہیں جو شاہ فیصل کو ملک سے

باہر جانے سے روک سکتا ہو۔ لیکن چونکہ وہ ایک کشمیری ہیں لہذا انھیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ دہلی کے ائیر پورٹ پر تھے۔ ٹوئٹر پر انڈین فوج پر عائد کیے جانے والے الزامات کے بارے میں شہلا کا کہنا ہے کہ میں نے جو کچھ بھی لکھا وہ کشمیر سے آنے والے لوگوں سے کی گئی گفتگو پر مشتمل ہے اور انسانی حقوق کی کارکن ہونے کے ناطے میرا کام ہے کہ میں کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر روشنی ڈالوں۔ وہ کہتی ہیں ابھی میرے سے ثبوت مانگے جا رہے ہیں جبکہ حکومت نے خود ہر قسم کی معلومات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اگر کوئی کشمیر میں کیے جانے والے جرائم کی ویڈیو بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو صحافیوں سے ان کے موبائل چھینے جا رہے ہیں۔وہ کہتی ہیں یہ کوئی سنی سنائی یا قیاس آرائیاں نہیں۔ میں نے جو کچھ بھی لکھا اور جو کہہ رہی ہوں وہ سب حقیقت پر مبنی ہے۔ آخر میں بھارت بربریت میں وحشی درندوں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ شہلا رشید کشمیری عوام کی آواز ہے اور اس آواز کو بھارت دبانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے ۔کیونکہ بھارت حق اور سچ کی ہرآواز کے خلاف ہے۔ ایٹمی طاقت سچائی کے سامنے بری طرح بے نقاب ہے۔ اس لیے نئی دہلی ایک نہتی لڑکی سے خوف زدہ ہے۔ شہلا رشید کو پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ہرد فرد کا یہ نعرہ ہے کہ “ہم سب شہلا رشید ہیں “۔ (ش س م)

اپنا تبصرہ بھیجیں