انکی تو آپ بات نہ کریں ، چھوٹے میاں صاحب کی ہر بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نامور (ن) لیگی رہنما نے اپنے ہی لیڈر کے بارے میں حیران کن بات کہہ ڈالی

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) رہنما مسلم لیگ ن سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی پارٹی میں اکثر معاملات پر رائے الگ ہوتی ہے اور اگر ڈیل کے حوالہ سے بھی شہبازشریف کی رائے مختلف ہوئی تو نواز شریف کی رائے کو ہی ترجیح دی جائے گی۔ مشاہد اللہ نے کہا

کہ نواز شریف کی جانب سے اگر ڈیل پر بات چیت اگر ہو گی تو اصول کو قائم رکھ کر ہو گی، اصولوں کو توڑ کر نہیں ہو گی، ڈیل کا لفظ اچھا نہیں میاں صاحب کے لئے ڈیل کرنے کا یہ وقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ڈیل کرنا ان لوگوں کی مجبوری ہے جن سے پبلک پریشر برداشت نہیں ہو رہا، نوازشریف اور ان کی جماعت ووٹ کو عزت دو کے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے، نوازشریف کو جیل میں ڈالنے والے نے خود کہہ دیا ہے کہ میں غلط کیا اس کے بعد بات ختم ہوجاتی ہے ڈیل میاں صاحب کی خواہش نہیں، دیکھنا ہے کہ اب یہ کس کی خواہش ہے۔ دوسری جانب وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر)اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف نیب کے قیدی ہیں، پلی بارگین بھی ان سے ہی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جوکشمیر کا سودا کرسکتے تھے ، اللہ نے ان کو جیل بھیج دیا ہے، حکومت اورقوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے کوئی کشمیر کا سودانہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ میرا یا حکومت کا پلی بارگین سے کوئی تعلق نہیں ہے جو کرنا ہے نیب نے کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سینئیر صحافی عارف نظامی نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران کان سے کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ نوازشریف کا جو تعلق رہا اس میں پیسوں کا لیں دین ہمیں کبھی نظر نہیں آیا۔ سینئیر صحافی نے بتایا کہ ترک صدر نےوزیراعظم عمران کان اور اسٹیبلشمنٹ سے سفارشکی ہے کہ میاں نواز شریف کو رہا کر دیں تاہم وزیراعظم کا اس حوالے سے کیا جواب تھا یہ معلوم نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں