جمہوریت کو خطرہ ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ۔۔۔۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی میدان میں آ گئے، ناقابل یقین بیان جاری کر دیا

" >

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بداعتمادی کو جنم دیتا ہے اور بد اعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نئے عدالتی سال کا فل کورٹ

ریفرنس ہوا جس میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس مظہر عالم کے علاوہ تمام ججز شریک ہوئے۔اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں بخوبی آگاہ ہوں کہ سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیویزم میں عدم دلچسپی پر ناخوش ہے، وہ طبقہ چند ماہ قبل جوڈیشل ایکٹیویزم پر تنقید کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ازخود نو ٹسز پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ ہے اور کم نقصان دہ ہے، تاہم معاشرے کا مخصوص طبقہ چند لوگوں کے مطالبے پر ازخودنوٹس لینے کو سراہتا ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ‘ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں، جسے سن کر فیصلہ ہوگا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ ازخود نوٹس کے اختیار کو قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا کیونکہ جو کسی کے مطالبے پر لیا گیا ہو وہ ازخود نوٹس نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ جب عدالت کسی معاملے پر ضرورت محسوس کرے گی تب ازخود نوٹس لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک مسودہ تیار کر لیا جائے گا اور اس مسئلے کو بھی ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے گا۔چیف جسٹس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پر ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 18 لاکھ 10 ہزار تھی، تاہم اب لا اینڈ جسٹس کمیشن کے

مطابق زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہوکر 17 لاکھ 80 ہزار ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس سپریم کورٹ میں 19 ہزار 7 سو 51 مقدمات کا اندراج ہوا جبکہ عدالت عظمیٰ نے 57 ہزار 6 سو 84 مقدمات نمٹائے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی سپریم کورٹس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ای-کورٹ کا نظام متعارف کروایا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ای-کورٹ کے نظام کے ذریعے عدالت عظمیٰ، پرنسپل سیٹ اور تمام رجسٹریاں ویڈیو لنک کے ذریعے منسلک ہوئیں۔چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کی کارروائی کو مشکل ترین کام قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئیں صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی بھی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی، صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی جبکہ دوسری جانب کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور با اختیار ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گزشتہ عدالتی سال سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا پرائیویٹ درخواستوں کی تعداد 56 تھی جن میں مزید 102 کا اندراج ہوا جبکہ کونسل میں ایک سو 49 شکایات نمٹائی گئیں اور اس وقت ایس جے سی میں 9 شکایات زیر التوا ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیئرمین اپنے حلف پر قائم ہیں، کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے

بغیر اپنا کام جاری رکھے گی۔انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے۔‘چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بد اعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے، جبکہ اختلاف کو برداشت نہ کرنے سے اختیاری نظام جنم لیتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ’میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون ساز عدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں لیکن بدقسمتی سے اس معاملے پر کچھ نہیں کیا گیا، حتیٰ کہ ادارہ جاتی مذاکرات کی تجویز پر بھی غور نہیں کیا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشتگردی سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 376 اور 370 کی منسوخی کا اقدام غیر قانونی ہے، پاکستان اس مسئلے کو کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہا ہے۔اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ ’بدقسمتی کے ساتھ بھارتی سپریم کورٹ بھی اس معاملے میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے اس معاملے کو قانونی تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اقوام عالم کے سامنے اٹھایا۔ماتحت عدلیہ کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسلوائس چیئرمین پاکستان بار کونسل

سید امجد شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ماتحت عدلیہ میں انصاف کی فراہمی کبھی تسلی بخش نہیں رہی یہاں کارکردگی میں بہتری لائی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو مقدمات کے فیصلوں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، واٹس آپ پر ججز کے تبادلے کے احکامات سے اجتناب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ماڈل کورٹس میں مقدمات کی کارروائی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے جبکہ آئین کی بالادستی کے لیے ہر ادارہ اپنے حدود میں رہ کر کام کرے۔سید امجد شاہ نے پاکستان کی 2 بڑی شخصیات کے خلاف کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کے مقدمات کی سنوائی جلدی جلدی کردی گئی جبکہ جس حکمران نے 2 مرتبہ آئین توڑا اس کا مقدمہ سالوں سے فیصلہ طلب ہے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ازخود نوٹس میں بھی اپیل کا حق دیا جائے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج ہوچکی ہے، ایس جے سی کے خلاف درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے لگایا جائے۔پولیس حراست میں ملزمان کی اموات کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی حراست میں لوگوں کی اموات کے واقعات تشویشناک ہیں، سپریم کورٹ سے سزا یافتہ پولیس افسران آج بھی اپنے اعہدوں پر کام کر رہے ہیں۔صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے خطا کرتے ہوئے کہا کہ تمام اختلافات کے باوجود وطن کے دفاع کے لیے ہم سب ایک ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں تنقید کرنا آسان جبکہ عمل کرنا مشکل ہے۔صدر سپرم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ انسان دوسروں کے لیے بہترین منصف اور اپنے لیے بہترین وکیل ہوتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ زیر التوا مقدمات کے حتمی فیصلے تک میڈیا کو اس سے متعلق مواد نشر کرنے سے روکا جائے، کسی کو بھی معزز جج کی کردار کشی کا استحقاق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ میڈیا عوام کی مشکلات سامنے لانے کے بجائے اشرافیہ کے مقدمات کو سامنے لاتا ہے۔امان اللہ کنرانی نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت جن ججز کے خلاف شکایات ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں