موجودہ چیف جسٹس کے سوموٹو نہ لینے کانقصان کن لوگوں کوہوگا؟ حفیظ اللہ نیازی کا ناقابل یقین ردعمل سامنے آگیا

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تجزیہ کارحفیظ اللہ نیازی نے کہاہے کہ سابق چیف جسٹس نے سوموٹو سے جو نتائج حاصل کرنا تھے کرکے دے دیئے ، اس سے کچھ لوگوں نفع ہواہے اور کچھ لوگوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا ،موجودہ چیف جسٹس اگر سوموٹو نہیں لے رہے تو اس سے بھی ان لوگوں کو نقصان

ہوگا جن کوپہلے نقصان ہوا اور ان لوگوں کو ہی نفع ہوگا جن کوپہلے نفع ہواہے ۔جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ پانامہ کیس میں بہت سارے وکلاءکی رائے ہے کہ پانامہ کیس پر سوموٹو نہیں لیا جاسکتا لیکن لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے سوموٹو سے جو نتائج حاصل کرنا تھے کرکے دے دیئے۔حفیظ اللہ نیازی کا کہناتھا کہ سوموٹو لینے سے کچھ لوگوں کونفع ہواہے اور کچھ لوگوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے اور موجودہ چیف جسٹس اگر سوموٹو نہیں لے رہے تو اس سے بھی ان لوگوں کو نقصان ہوگا جن کوپہلے نقصان ہوا اور ان لوگوں کو ہی نفع ہوگا جن کوپہلے نفع ہواہے ۔ حفیظ اللہ نیازی نے کہاہے کہ شہباز شریف نے جتنے ترقیاتی منصوبے مکمل کرائے اور جتنے کام کئے، وہ پاکستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں کئے ہیں جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ فریال تالپور اور آصف زرداری کو اگر کچھ ہوا تو وزیر اعلی پنجاب ذمہ دار ہوں گے، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو پنڈی میں شہید کیا گیا، ملک اب روالپنڈی میں ایسا کوئی سانحہ برداشت نہیں کر سکتا،آج میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھتا ہوں کہ وہ کون ساتھانہ ہے جہاں ایس ایچ او ایم پی ایز ،ایم این ایز اور حکمران جماعت کی مرضی سےنہیں لگے ؟حکمرانوں کے پولیس ریفارم کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،پولیس حکمرانوں کی نہیں ریاست

کی ملازم بنے۔ پیپلز پارٹی لاہور آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نےکہا کہموجودہ حکومت کا فسطائی رویہ دن بدن بڑھتا جا رہا اور اس میں شدت آ رہی ہے،حکومت کا اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے اور زہریلے پراپیگنڈے کر کے،مقدمات بنا کر ،جھوٹے دعوے اور وعدے کر کے آئین کو پامال کرکے ،پارلیمان کو بے وقعت کر کے ملک کو شخصی حاکمیت کی طرف لے جانے والا رویہ وفاق کیلئے خطرناک ہے،فریال تالپور کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے گیے لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا،آصف زرداری کو علاج کی سہولت نہیں دی جا رہی۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ عدالتی حکم کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے،حکومت پنجاب کو خط لکھ رہے ہیں کہ اگر آصف اور فریال کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعلی پنجاب ہوں گے۔قمر زمان کائرہ نےکہا کہ پورے ملک میں لا انفورسمنٹ ایجنسیز کے رویوں میں تبدیلی لانا بہت ضروری ہے ،المیہ یہ ہے کہ جس ملک کا حکمران اپنے مخالف کو دیکھنا پسند نہیں کرتا ،اس سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتا ،جس کے وزیر گالیاں دے کر باتیں کرتے ہیں،اگر حکمران جماعت یہ رویہ اختیار کرتی ہے تو پھر سماج کیا کرے گا؟وہاں بھی پھر ایسے ہی رویے پنپیں گے ،اگر ماضی میں کچھ بہتری آئی تھی اور آج پھر خرابی ہوئی ہے تو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ،حکمرانوں کو اپنی اداؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ،اگرحکمران گالیاں دیں گے برا بھلا کہیں گے ’لٹکا دوں گا ‘‘پیٹ پھاڑ دوں گا ‘اس کو پھانسی دے دوں

گا ‘یہی باتیں کریں گے تو پھر جو با اختیار ادارے ہیں ان کے ہاں بھی یہی کچھ ہو گا ،پولیس کے ذمہ داران کو سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرنا ہو گا ،پولیس میں ان ریفارم کی فوری ضرورت ہے جس میں عوام کو پولیس اپنی محافظ نظر آئے ،جب یہ حکومت آئی تو ان کا دعویٰ تھا کہ پولیس میں سیاسی لوگوں کی مداخلت نہیں ہو گی ،آج میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھتا ہوں کہ وہ کون ساتھانہ ہے جہاں ایس ایچ او ایم پی ایز ،ایم این ایز اور حکمران جماعت کی مرضی سے نہیں لگے ؟وہ کون سا تھانہ ہے جہاں منشی ان کی مرضی سے نہیں لگے ؟وہ کون سا ایس پی اور ڈی ایس پی ہے جو میرٹ پر لگا ہے ؟وہ دعوی سارے کے سارے دھرے رہ گئے ،ہمیں شہباز شریف کے دور میں بھی پولیس کے رویے پر اختلاف تھا لیکن آپ تو بالکل ہی گئے گذرے ہو گئے ،حکمران جماعت کے لوگ جو چاہتے ہیں پولیس ویسے ایکٹ کرتی ہے جیسے ان کی ذاتی ملازم ہے،ہمیں آئی جی پنجاب اور پولیس ملازمین سے کہنا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو درست کرتے ہوئے ریاست کے ملازم بنیں ،پوسٹیں اتنی اہم نہیں ہیں کہ اس کی بنیاد پر اپنے ضمیر بیچ دیں اور کسی فضول آدمی کے کہنے پر اپنی ذمہ داریوں سے اعراض برتتے ہوئے لوگوں کے ساتھ زیادتیاں شروع کر دیں ،پولیس اپنی ڈیوٹی کرے گی تو ہم اس کا احترام کریں گے نہیں تو سخت اعتراض کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ تصادم کسی کے حق میں بھی نہیں ہو گا ،پچھلے دنوں لاہور شہر میں ایک انتہائی گھٹیا حرکت کی گئی، پاکستان اور پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں بہت بڑا نام ہے ،جمہور اور جمہوریت کے لئے ان کی بہت بڑی خدمات ہیں ،ضیا الحق کی آمریت کے خلاف اتنی جرات سے بولنے والے بندے کم تھے ،پنجاب یونیورسٹی انڈر پاس سے ان کا نام ہٹانا انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے،فورا وارث میر انڈر پاس کا نام بحال کیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں