’’مجھے دور دور تک کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔‘‘ تجزیہ کار حسن نثار نے وزیراعظم عمران خان سے اظہار مایوسی کرتے ہوئے کیا کچھ کہہ ڈالا؟

" >

اسلام آباد (ویب ڈیسک)تجزیہ کارحسن نثار نے کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بہت سے وعدے کئے تھے،یہاں روشنی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے ، اخلاقیات برباد ہوگئی ہیں ۔جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ” لفظ کیا لوگ تو تحریر سے بھی پھر جاتے ہیں، تو نے

کیوں میری ہر اک بات کوسچ جاناتھا؟“ ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بہت سے وعدے کئے تھے لیکن ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ریاست مدینہ ہویا کوئی اور ریاست جب حکمران کوئی وعدے کرتاہے تو ان وعدوں کی تکمیل کیلئے عوام کا تعاون بھی درکار ہوتا ہے ۔حسن نثار کا کہنا تھا کہ یہاں روشنی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے ، اخلاقیات برباد ہوگئی ہیں ۔ اگر انسان سازی نہ ہوئی تو کچھ نہیں ہونا اگر چہ الٹے بھی لٹک جاﺅ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ فریال تالپور اور آصف زرداری کو اگر کچھ ہوا تو وزیر اعلی پنجاب ذمہ دار ہوں گے، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو پنڈی میں شہید کیا گیا، ملک اب روالپنڈی میں ایسا کوئی سانحہ برداشت نہیں کر سکتا،آج میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھتا ہوں کہ وہ کون ساتھانہ ہے جہاں ایس ایچ او ایم پی ایز ،ایم این ایز اور حکمران جماعت کی مرضی سےنہیں لگے ؟حکمرانوں کے پولیس ریفارم کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،پولیس حکمرانوں کی نہیں ریاست کی ملازم بنے۔ پیپلز پارٹی لاہور آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نےکہا کہموجودہ حکومت کا فسطائی رویہ دن بدن بڑھتا جا رہا اور اس میں شدت آ رہی ہے،حکومت کا اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے اور زہریلے پراپیگنڈے کر کے،مقدمات بنا کر ،جھوٹے دعوے اور وعدے کر کے آئین کو پامال کرکے ،پارلیمان کو بے وقعت کر کے ملک کو شخصی حاکمیت کی طرف لے جانے والا رویہ وفاق کیلئے خطرناک ہے،فریال تالپور کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے گیے لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا،آصف زرداری کو علاج کی سہولت نہیں دی جا رہی۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ عدالتی حکم کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے،حکومت پنجاب کو خط لکھ رہے ہیں کہ اگر آصف اور فریال کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعلی پنجاب ہوں گے۔قمر زمان کائرہ نےکہا کہ پورے ملک میں لا انفورسمنٹ ایجنسیز کے رویوں میں تبدیلی لانا بہت ضروری ہے ،المیہ یہ ہے کہ جس ملک کا حکمران اپنے مخالف کو دیکھنا پسند نہیں کرتا ،اس سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتا ،جس کے وزیر گالیاں دے کر باتیں کرتے ہیں،اگر حکمران جماعت یہ رویہ اختیار کرتی ہے تو پھر سماج کیا کرے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں