عالمی دہشت گردوں کی نئی فہرست جاری ۔۔۔۔ اب کس کس کو شامل کر لیا گیا ؟ پاکستانیوں کے کام کی خبر

" >

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا نے تحریک طالبان پاکستان کے امیر مفتی نور ولی محسود سمیت کئی افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردوں حملوں میں ملوث ہونے پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر کو عالمی دہشت گرد قرار دیا۔امریکا کی

جانب سے حزب اللہ، ایرانی پاسداران انقلاب، القاعدہ، حماس، فلسطین اسلامک جہاد اور داعش سے وابستہ دیگر افراد کو بھی عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی سربراہی میں کالعدم ٹی ٹی پی نے پاکستان میں ہونے والے کئی دہشت گردوں کی ذمہ داری قبول کی جب کہ مفتی نور ولی کو 2018 میں ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ کے مارے جانے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کا سربراہ بنایا گیا۔امریکا کی جانب سے ملا فضل اللہ کے حوالے سے اطلاع دیے جانے پر 5 ملین ڈالر کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کو بھی عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ پاکستان کی عالمی سطح پر کامیاب سفارت کاری کی بدولت بلوچ لبریشن آرمی عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دی گئی ۔ امریکا نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور جنداللہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا،دونوں تنظیموں کے تمام تر اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ۔پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے لائیں، پاکستان کے دہشت گردی کے حوالے سے موقف کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ، امریکا نے بھی بلوچستان میں ریاست مخالف کارروائیاں کرنے والی بلوچ لبریشن آرمی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا۔امریکی وزارت خارجہ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی امریکی قومی سلامتی اور معاشی مفادات کے لیے خطرہ ہے، اس وجہ سے ان کے امریکہ میں موجود بنک اکاؤنٹس منجمد کیے جاتے ہیں اور اس تنظیم کی مدد کرنا بھی جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔بلوچ لبریشن آرمی 2004 سے پاکستان میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، یہ تنظیم پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور سفارت خانوں پر حملوں میں بھی ملوث ہے۔اس تنظیم کے کمانڈر براہمداغ بگٹی اور حربیار مری ہیں جو عرصہ دراز سے بیرون ملک بیٹھ کر تخریب کار سرگرمیوں کو سر انجام دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں