بریکنگ نیوز: برطانیہ میں دوبارہ انتخابات ہونگے یا نہیں ۔۔۔؟ فیصلہ ہو گیا

" >

لندن (ویب ڈیسک)برطانوی پارلیمنٹ نے اپنی محدود معطلی سے پہلے قبل ازوقت انتخابات کی قرارداد دوسری بار مسترد کردی، بورس جونسن نے یورپی یونین سے نئی ڈیل کا عندیہ دیدیا ہے ۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جونسن کو اس وقت دھچکے کا سامنا کرنا پڑا جب پارلیمنٹ نے اپنی محدود معطلی سے

پہلے قبل ازوقت انتخابات کی قرارداد دوسری بار مسترد کردیا۔ قرارداد مسترد ہونے کے بعدبھی بورس جونسن اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے یورپی یونین سے نئی ڈیل کا عندیہ دے دیاہے ۔ اس سے قبل حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی نے قبل از وقت پندرہ اکتوبر کو عام انتخابات کرانے کی قرارداد دارالعوام میں پیش کی جس کی کامیابی کے لیے حکومت کودو تہائی اکثریت 434 ووٹ درکارتھے مگر ووٹنگ ہونے پر قرارداد کے حق میں صرف 293 ووٹ ڈالے گئے۔برطانوی وزیراعظم بورس جونسن نے قرار داد ناکام ہونے پر کے بعدپارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ چاہے ہاتھ باندھ دے، قومی مفاد میں کوئی نہ کوئی راستہ نکال لوں گا۔وزیراعظم نے 17 اکتوبر کو یورپی یونین کے اہم سمٹ میں شرکت کے عزم کا بھی اظہار کیا۔اس سے پہلے برطانوی حکومت نے پارلیمان کو پانچ ہفتوں کے لئے معطل کرنے کا اعلان کیا جو آج سے نافذالعمل ہے ہوگا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے افغان طالبان سے مذاکرات گہرے اختلافات کے باعث منسوخ ہوئے۔ امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا امریکہ ابھی بھی طالبان کے ساتھ امن معاہدہ چاہتا ہے۔ افغان طالبان نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکا سمجھوتیکی پوزیشن میں واپس آئیگا۔ کابل حکومت کے ترجمان نے کہا ہے طالبان کے قول و فعل میں تضاد ہے تو وہ شک اور اظہار تشویش کریں گے۔امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے مذاکرات منسوخ کرنے کے اقدامات کو درست قرار دیا اور امن معاہدے کی خواہش کا بھی اظہار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کئے گئے وعدوں پر عمل نہیں کرتے۔ صدر ٹرمپ طالبان پر دباؤ کم نہیں کریں گے، صدر ٹرمپ کا مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ د رست ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات گہرے اختلافات کے باعث منسوخ ہوئے، مذاکرات کے دوران طالبان کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کا جواز نہیں تھا۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام ٹرمپ کی طالبان وفد سے ملاقات سے قبل معاہدے کو فائنل کرنا چاہتے تھے، طالبان نے معاہدہ طے پانے سے پہلے افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات سے انکار کیا۔ طالبان رہنما نے امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ حکومت اورطالبان میں محاز آرائی کو واشنگٹن کی ایک میٹنگ میں حل کرسکتے ہیں تویہ ممکن نہیں۔ترجمان افغان حکومت نے کہا کہ طالبان کے قول و فعل میں تضاد ہے تو وہ شک اور اظہار تشویش کریں گے، ترجمان افغانستان صادق صدیقی نے کہا کہ افغان حکومت کو کسی بھی امن مذاکرات سے الگ نہیں کرنا چاہیے۔ادھر افغان طالبان نے کہا ہے کہ جنگ کی جگہ سمجھوتے کا راستہ اختیار کیا جائے تو وہ بھی تیار ہیں۔ توقع ہے کہ امریکا سمجھوتیکی پوزیشن میں واپس آئیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں