جیل ہو تو ایسی ۔۔۔ نیب لاہور کی عمارت میں مریم نواز کو کہاں رکھا گیا ہے ان کے زیر استعمال کتنے کمرے ہیں اور ان میں کیا کیا سہولیات میسر ہیں ؟ اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر تہلکہ خیز انکشاف کر ڈالے

" >

لاہور(ویب ڈسیک ) سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کی چوہدری شوگر ملز کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر جو بظاہر سب سے اہم معاملہ زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ ملزمہ کو گرفتاری کے بعد کہاں پر رکھا گیا ہے۔میڈیا کے کچھ نمائندے

ذرائع سے یہ خبریں چلا رہے ہیں کہ نیب کے حکام نے مریم نواز کو گرفتار کرنے اور پھر نیب کی مقامی عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد اُنھیں لاہور کے نیب کے دفتر میں رکھا ہے۔اس عمارت میں نیب کی خواتین اہلکاروں کے بچوں کے لیے ایک ڈے کئیر سینٹر بنایا گیا ہے۔ اس ڈے کئیر سینٹر بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ڈیوٹی کے دوران اگر نیب کی خواتین اہلکار اپنے شیرخوار بچوں کو ساتھ لے کر کام پر آتی ہیں تو وہاں پر ان بچوں کی دیکھ بھال کی جاسکے۔نیب لاہور کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیب لاہور کی مین بلڈنگ میں حال ہی میں دو سے تین نئے کمرے تعمیر کیے گئے ہیں جن کو ڈے کیئر سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔یہ مکمل طور پر فرنیشڈ عمارت ہے جسے سب جیل قرار دے کر اس کے ایک کمرے میں مریم نواز کو رکھا گیا ہے۔’ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے برعکس یہ اتنی تنگ بلڈنگ نہیں جدھر ایک ملزم کو نہ رکھا جا سکے۔انھوں نے بتایا کہ چونکہ یہ ایک فرنیشڈ بلڈنگ ہے اس لیے مریم نواز کو گھر والی تقریباً تمام سہولیات وہاں میسر ہیں۔انھوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ ڈے کیئر سینٹر کو سب جیل قرار دینے کے بعد وہاں لائے جانے والے ملازمین کے بچوں کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے صرف یہ کہنے

پر ہی اکتفا کیا کہ ‘آج کل عید کی چھٹیاں شروع ہو چکی ہیں تو فی الحال یہ مسئلہ نہیں کہ ملازمین کے بچوں کو کہاں رکھا جائے گا۔’انھوں نے بتایا کہ اس بلڈنگ کی تمام تر سکیورٹی اور دیگر معاملات کی نگرانی خواتین پولیس اہلکاروں کے ذمہ ہے۔اس عمارت میں ڈی جی نیب لاہور کے دفتر کے علاوہ تفتیش کے لیے تین کمرے بھی بنائے گئے ہیں جنہیں انٹرویو روم کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس عمارت میں ملزموں کو قید کرنے کے لیے 14 حراستی مرکز ہیں جو کہ ایک دوسرے کے سامنے واقع ہیں۔ تاہم ایک اور نیب اہلکار نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ اس عمارت میں خواتین کے لیے کوئی سیل موجود ہی نہیں ہے۔مریم نواز کو جس جگہ پر رکھا گیا ہے وہ جگہ ڈے کئیر ک کا ایک کمرہ ہے اور وہاں پر صرف خواتین ہی جاسکتی ہیں جبکہ مردوں کا داخلہ ممنوع ہے۔مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جب مریم نواز کو نیب کے حکام نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیا تو اُنھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ اُنھیں نیب کی بلڈنگ میں واقع ڈے کیئر سینٹر میں رکھا جائے گا۔مریم نواز دوسری خاتون ہیں جنہیں نیب کی اس عمارت میں رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے طیبہ گل نامی خاتون کو اس عمارت میں رکھا گیا۔لاہور کے مقامی صحافی علی وقار کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی

تھی جس میں وہ کسی خاتون سے گفتگو کر رہے تھے، اس کا مرکزی کردار طیبہ گل ہی تھیں۔چوہدری شوگر ملز کے مقدمے میں مریم نواز کے کزن کو بھی گرفتار کیا گیا ہے اور مقامی عدالت سے ملزمان کا 12روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا گیا ہے۔ ان ملزمان سے نیب کی ایک ٹیم تفتیش کر رہی ہے جس میں تمام مرد شامل ہیں۔ نیب کے حکام کا کہنا ہے کہ مریم نواز سے تفتیش کے لیے یا تو کسی خاتون افسر کو شامل کیا جائے گا اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو خواتین پولیس اہلکار اس وقت تک تفتیشی کمرے میں موجود رہیں گی جب تک نیب کی ٹیم مریم نواز سے تفتیش مکمل نہیں کرلیتی۔نیب کے ایک اہلکار کے مطابق مریم نواز کے لیے کھانا ان کے گھر سے آرہا ہے اور نیب کے حکام نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔صحافی علی وقار کے مطابق ڈے کیئر سینٹر کے قریب جو تین انٹرویو روم ہیں جہاں ہر ملزمان سے تفتیش کی جاتی ہے وہاں پر نہ صرف کلوز سرکٹ کیمرے لگے ہیں بلکہ وہاں پر آواز ریکارڈ کرنے کے آلات بھی نصب کیے گئے ہیںاُنھوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے نکتہ نگاہ سے اس عمارت میں موجود واش رومز کے ایسے مقام پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں جہاں سے کسی بھی شخص کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوتی۔علی وقار کے مطابق یہ کیمرے اس لیے لگائے گئے ہیں کہ کہیں کوئی ملزم واش روم استمال کرتے ہوئے خود کشی کرنے کی کوشش نہ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں